کی یہ رائے درست نہیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے النکت میں اس پر نقد کیا ہے۔ [1]
تو صحیح بات اس بارے میں یہی ہے کہ اس سے مراد (یعنی علی شرط البخاری ) اس (بخاری) کے راوی ہیں ۔ جب راوی ہیں تو پھر پچھلی سند زیر بحث آئے گی۔ (یعنی جو مصنف سے لے کر اس راوی تک ہے جس راوی کے ساتھ صحیح بخاری کی سند ملتی ہے۔ ) اس سند کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بھی شرط بخاری پر ہے۔ اور تصحیح و تحسین کے حوالے سے مزید ضمنی چیزیں بھی ملحوظ رکھی جائیں گی ۔
ويوضح ذلك قوله - في باب التوبة - لما أورد حديث أبي عثمان عن أبي هريرة - رضي الله عنه - مرفوعا:"لا تنزع الرحمة إلا من شقي". قال: هذا حديث صحيح الإسناد"وأبو عثمان هذا ليس هو النهدي ولو كان هو النهدي لحكمت بالحديث على شرط الشيخين"۔
فدل هذا على أنه إذا لم يخرجا لأحد رواة الحديث لا يحكم به على شرطهما وهو عين ما ادعى ابن دقيق العيد وغيره. وإن كان الحاكم قد يغفل عن هذا في بعض الأحيان، فيصحح على شرطهما بعض ما لم يخرجا لبعض رواته، فيحمل ذلك على السهو والنسيان ويتوجه به حينئذ عليه الاعتراض. - والله أعلم''