ان کے بارے میں کوئی جرح منقول نہیں ہے۔ تو یہ تقریبًا امام ابن حبان رحمہ اللہ والی بات ہی ہے، لہذا جس طرح امام ابن حبان رحمہ اللہ توثیق میں متساہل ہیں ، اسی طرح امام حاکم رحمہ اللہ بھی متساہل ہیں۔
بعض حضرات نے خوامخواہ یہاں یہ بات چھیڑ دی ہے کہ ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ اصول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے لیا ہے۔ [1] حالانکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ مجہول کی روایت کو مشروط قبول کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے تو انہوں نے یہ اصول کیا لینا ہےوہ تو خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر شدید جرح کرتے ہیں۔ [2] بلکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اپنے شاگرد قاضی ابو یوسف اور محمد ابن حسن شیبانی کہتے ہیں کہ مجہول کی روایت قبول نہیں۔ [3]
شاگرد تو معترف نہیں ہے، اس کو تو گول کرجاتے ہیں اور آگے ابن حبان رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ اصول امام صاحب سے لیا ہے اور جب ان کی جرح امام صاحب پر دیکھتے ہیں تو پھر پریشانی ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں امام ابن حبان رحمہ اللہ نے مجہول کی مقبولیت میں جو شرطیں ذکر کیں ہیں امام صاحب کے اصول میں ان کا کوئی ذکر نہیں اس لئے یہ تاثر درست نہیں کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ اصول امام صاحب سے لیا ہے۔ تو خیر ہر کوئی اپنی اپنی ضرورت کے
ملا علی قاری کے اس قول کو ابو غدہ نے بھی الرفع والتکمیل کے حاشیہ میں پیش کیا۔ (۲۴۵)
[2] المجروحین:۳/۶۱شرح شرح نخبۃ الفکر لعلی القاری، السرخسی ،
[3] شرح شرح نخبۃ الفکر لعلی القاری، السرخسی ،