فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 337

ساتویں دلیل

دشمن کےمقابل ثابت قدمی کا وسیلہ

وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللّٰہُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَوَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَفَآتَاهُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ وَاللّٰہُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران:146۔148)

''اور کتنے نبی ہوئے جن کے ساتھ ہوکر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں۔توجو مصیبتیں ان پرراہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اورنہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے،اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اوراس حالت میں ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار،ہمارے گناہ اورزیادتیاں جوہم اپنے کاموں میں کرتے ہیں،معاف فرما اورہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما۔تو اللہ نے ان کو دنیا میں بدلہ دیااور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دےگا اور اللہ نیکوکاروں کو کودوست رکھتا ہے۔''

ان آیتوں میں ان لوگوں کو عتاب کیا گیا ہے جنہوں نے معرکہ احد میں شکست کھائی اور محض اس افواہ پر لڑائی چھوڑ دی اور پست ہمت ہو گئے کہ کسی نے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت