۱:… اگر شرک کا مرتکب توبہ کے بغیر مرجائے تو اس کی مغفرت نہیں ہوگی۔فرمان الٰہی ہے:
{اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ} [النساء:۱۱۶]
''یقینا اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔''
۲:… مشرک انسان ملت اسلام سے خارج اور مباح الدم والمال ہے، جیسا کہ فرمایا:
{فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ َو احْصُرُوْہُمْ وَ اقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ} [التوبۃ:۵]
''پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، انہیں گرفتار کرو، ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو۔''
۳:… اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرتے اور اس کے سابقہ نیک اعمال بھی برباد کر دیے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰـہُ ہَبَآئً مَّنْثُوْرًا} [الفرقان:۲۳]
''اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کر دیا۔''
نیز اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:
{وَلَقَدْ اُوحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} [الزمر:۶۵]