فهرس الكتاب

الصفحة 210 من 248

گیا تو انھوں نے فرمایا:

''إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ فَحَسْبُہٗ قِرَائَۃُ الْإِمَامِ،وَ إِذَا صَلّٰی وَحْدَہٗ فَلْیَقْرَأْ''

''تم میں سے جب کوئی شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قراء ت ہی کافی ہے اور جب وہ اکیلا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ قراءت کرے۔''

مزید وہ بیان فرماتے ہیں:

''وَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ'' [1]

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔''

موطا امام محمد میں ایک اور طریق سے مروی ہے:

''کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ'' [2]

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔''

سنن کبریٰ اور''کتاب القراءۃ''بیہقی میں ہے:

''کَانَ لَا یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ جَہَرَ أَوْ لَمْ یَجْہَرْ،وَ کَانَ رِجَالٌ أَئِمَّۃٌ یَقْرَأُوْنَ خَلْفَ الْإِمَامِ'' [3]

''وہ امام کے پیچھے جہری و سری نماز میں قراء ت نہیں کرتے تھے،جب کہ دیگر ائمہ کرام (صحابہ میں سے اہلِ علم لوگ) امام کے پیچھے قراء ت کیا کرتے تھے۔''

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ا ثر مجمل ہے،جب کہ انہی سے مروی دوسرے آثار

[2] موطأ إمام محمد (ص:۹۶)

[3] بیہقي (۲/۱۶۱) ،کتاب القراءة مترجم (ص:۱۶۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت