فهرس الكتاب

الصفحة 17 من 248

فضائل و برکات کے ساتھ ساتھ ہی اس کی فرضیت و رکنیت بھی بیان کرنے جا رہے ہیں اور وہ یوں کہ نماز کی ہر رکعت میں امام اور منفرد،یعنی اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے تمام ائمہ و فقہا اور محدثینِ کرام کے نزدیک اس سورت فاتحہ کا پڑھنا بلا اختلاف فرض ہے،اس سلسلے میں فرضی و نفلی اور سری و جہری،یعنی بلا آوازِ قراء ت والی یا بآوازِ بلند قراء ت والی نمازوں میں بھی کوئی فرق نہیں ہے اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر متعدد ارشادات مروی ہیں:

1۔صحیح بخاری،مسلم،ترمذی،سنن کبریٰ بیہقی،کتاب القراءۃ بیہقی اور جزء القراء ۃ امام بخاری میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) ) [1]

''جو سورت فاتحہ نہ پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں۔''

یہ روایت صحیحین،سنن اربعہ،مسند احمد،دارقطنی،ابوعوانہ،بیہقی اور دارمی میں بھی ہے اور امام بخاری نے اسے متواتر قرار دیا ہے۔ [2]

صحیح مسلم کی ایک روایت میں (( بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) )کے بجائے (( بِفَاتِحَۃِ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا ) )کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ [3]

''اس کی کوئی نماز نہیں،جو اُم القرآن،یعنی سورت فاتحہ اور کچھ قرآن نہیں پڑھتا۔''

[2] توضیح الکلام (۱؍۱۱۹) و جزء القراءة (ص۳۷) (مترجم اردو)

[3] صحیح مسلم مع النووي (۲؍۴؍۱۰۰) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت