فهرس الكتاب

الصفحة 33 من 530

خریدی ہوئی چیز کی قبضے سے پہلے ہی خرید وفروخت

آئندہ صفحات میں ہم ان مسائل کا ذکر کریں گے جو خریدی ہوئی چیز کو قبضے میں لینے سے پہلے ہی فروخت کرنے سے متعلق ہیں اور بتائیں گے کہ اس میں کون سی صورت جائز اور کون سی ناجائز ہے اور کس صورت میں قبضہ صحیح شمار ہوگا اور کس میں صحیح شمار نہ ہوگا۔

ائمہ کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کسی شے کی بیع کرلینے کے بعد اور اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے فروخت کرنا جائز نہیں بشرطیکہ اس کا تعلق ماپ،ناپ،وزن اور گنتی سے ہو۔اسی طرح جو چیزیں ان کے علاوہ ہیں ان کابھی صحیح اور راجح قول کے مطابق یہی حکم ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ"

"جس نے اناج خریدا وہ اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک (اس کا ناپ اور وزن کرکے) اسے پوراحاصل نہ کرلے۔" [1]

ایک روایت کے الفاظ ہیں:"حتى يقبضه"یہاں تک کہ اسے اپنے قبضے میں کرلے۔ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:"حَتَّى يَكْتَالَهُ"یہاں تک کہ اس کاماپ کرلے۔" [2] "

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے:"وأحسب كل شيء مثله"" (کھانے کی اشیاء کے علاوہ) ہر چیز کا میں یہی حکم سمجھتا ہوں۔" [3]

بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:

"إذا اشتريت بيعا (شیئا) فلا تبعه حتى تقبضه"

"جب بھی کوئی شے خریدو تو اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت نہ کرو۔ [4] "

[2] ۔ صحیح البخاری، البیوع باب ما یذکر فی بیع الطعام۔۔۔۔،حدیث2133و صحیح مسلم البیوع باب بطلان بیع المبیع قبل القبض حدیث 1525۔

[3] ۔جامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ بیع الطعام حتی یستوفیہ بعد الحدیث 1291۔

[4] ۔مسند احمد 3/402۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت