سجدہ کرے گا بلکہ سننےوالا بھی سجدہ کرےگا، بالکل ایسے ہی جیسے امام نماز پڑھا رہاہوتو اس کی متابعت کی جاتی ہےلیکن اگرنماز کی کیسٹ لگی ہوتو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہےاور نہ سجدہ تلاوت ہی کرنا، علاوہ ازیں عبادت میں نیت کاپایا جانا ضروری ہےجوکہ کیسٹ کی تلاوت میں مفقود ہے۔
سوال: عمرحسین بذریعہ ای میل سوال کرتےہیں کہ امام مسلم نےاپنے مقدمہ میں (جسے ابن الصلاح نےاپنی کتاب ''علوم الحدیث'' میں بھی نقل کیا ہے) بیان کیا ہے کہ مرسل حدیث ضعیف شمار ہوتی ہےاور وہ حجت نہیں ہے۔ [1] اگرایسا ہےتو پھر امام مسلم نےمرسل حدیث کواپنی کتاب''صحیح مسلم''میں کیوں جگہ دی ؟ یہ سوال دراصل محمد حسن کمالی کی انگریزی کتاب''حدیث سٹڈیز''کےمطالعہ سےپیدا ہوا ہے۔
جواب: امام مسلم اپنےمقدمہ میں لکھتےہیں:احادیث کےراوی تین قسم کےہیں:
بہت ہی ثقہ راوی ،ثقاہت کےاعتبار سے معتدل اورمتروک راوی۔
پھر وہ لکھتےہیں: میں نے اپنی کتاب '' صحیح'' میں اصلًا پہلے گروپ کےراویوں سےروایت لی ہے،دوسرےگروپ کےراویوں سے صرف متابعت یاشواہد کی غرض سےرایت لی ہے جس سےمتن حدیث یااسناد حدیث کی تقویت مقصود ہوتی ہے،جہاں تک تیسری صنف کاتعلق ہےتوان سےمیں نے قطعًا روایت نہیں کی۔ [2]
[2] مقدمہ صحیح مسلم ،ص: 4، 5 بالاختصار