رضاعت کےبارے میں شرعی احکام کاخلاصہ یہ ہے: رضاعت اس عمل کانام ہےجس کےنتیجے میں ایک بچے کےمعدے میں عورت کا دودھ پہنچتا ہےاوربقول جرجانی:''رضاعت نام ہےبچے کا مدت رضاعت میں ایک عورت کی چھاتی سےدودھ کاچوسنا۔'' [1]
رضاعت کاحکم: ارشاد الٰہی ہے:
{ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ }
'' (اورحرام ہیں تم پر) تمہاری وہ مائیں جنہوں نےتمہیں دودھ پلایا اور رضاعت کی وجہ سے تمہاری بہنیں۔'' [2]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کےبارے میں کہا: ''یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔'' [3]
رضاعت کی شرائط: جمہور کےنزدیک جس رضاعت سےحرمت ثابت ہوتی ہے، وہ ولادت کےبعد شروع کےدوسال ہیں،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
{ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ}
''اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں (خاص طور پر) اس باپ کی خواہش کے مطابق جو پوری مدت کے لیے دودھ پلوانا چاہتا ہو۔'' [4]
اور ارشاد فرمایا: { حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا}
'' اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔'' [5]
[2] النساء 4؍23
[3] صحیح البخاری،الشھادات،حدیث: 2645،وصحیح مسلم،الرضاع،حدیث: 1446- 1447
[4] البقرہ2: 233
[5] الاحقاف 46: 15