جاتی ہے۔
اسی طرح نماز عصر سورج کےزردی مائل ہونے کےبعد ادا کی جاتی ہے۔کیاان نمازوں کاایسی مسجد میں ادا کرناشرعًا درست ہوگا جبکہ عشاء کاوقت شروع ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی ہو؟
جواب:
عصر کی نماز کاوقت ایک مثل پرہوجاتا ہے، یعنی زوال کےبعد جب کسی بھی چیز کاسایہ اس کےبرابر ہوجائے، [1]
اس وقت ظہر کاوقت ختم ہوجاتاہے اورعصر کاشروع ہوجاتاہے۔عصر کااول وقت میں پڑھنا افضل ہےاوراتنی تاخیر کرناکہ سورج زردی مائل ہوجائے مکروہ ہے،اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نےایسی نماز کومنافق کی نماز قرار دیا ہے۔ [2]
احناف کےنزدیک عصر کاوقت دومثل پرہوتا ہے، اس لیے وہ عمومًا تاخیر سے پڑھتےہیں لیکن پھر بھی منافقت کےوصف سےبچنے کےلیے زیادہ تاخیرنہیں کرنی چاہیے۔ اگر آپ کسی مسجد میں اول وقت باجماعت نماز پڑھ سکتےہوں یااہل خانہ کےساتھ مل کر اول وقت نماز پڑھ لیں توبہتر ہوگا لیکن اگر بڑی جماعت کاثواب لینے کےلیے محلّہ کی مسجد میں نماز پڑھ لیں جہاں مثل ثانی کےمطابق نماز ہوتی ہوتوان شاء اللہ
[2] صحیح مسلم ، المساجد و مواضع الصلاۃ، حدیث: 622