فهرس الكتاب

الصفحة 207 من 424

کرنےوالا! توتم لوگ اپنی اس بیع پرخوش ہوجاؤجوتم نےاللہ تعالیٰ سےکی ہےاوریہ بڑی کامیابی ہے۔'' [1]

اور اصطلاحًا (بیعت) اس معاہدے کوکہتےہیں جو امیر کی اطاعت کےلیے کیاجاتاہے۔بیع وشراء میں خریدنے والا بیچنے والے کےہاتھ میں پیسہ تھماتاہےاوربیچنے والا مشتری کےہاتھ میں اس کی خریدکردہ چیز دیتاہے،اسی طرح بیعت کرنےوالا اپنے پیر کےہاتھ میں ہاتھ دےکر بیعت کااقرار کرتاہے۔ قرآن وسنت میں چار طرح سےاللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےہاتھ پراہل ایمان کی بیعت کا ذکر ہے۔

عمومی بیعت،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}

'' جولوگ تجھ سے بیعت کرتےہیں وہ یقینًا اللہ سے بیعت کرتےہیں، اللہ کا ہاتھ ان کےہاتھوں کےاوپر ہے، پھر جوشخص عہدشکنی کرےاوراپنے نفس ہی کی عہد شکنی کرتاہے اور جوشخص اس عہد کوپورا کرے جواس نےاللہ کےساتھ کیاہے تواسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔'' [2]

بیعت رضوان جوچھ ہجری میں صلح حدیبیہ کےموقع پرلی گئی تھی، فرمایا:

{ لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا }

''یقینًا اللہ تعالیٰ مومنوں سےخوش ہوگیا جب وہ درخت تلے تجھ سےبیعت

[2] الفتح 48: 10

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت