شیخ مقبل بن ہادی الیمنی رحمہ اللہ نے کہا:
[التقلید حرام،لا یجوز لمسلم أن یقلد في دین اللّٰہ…] [1]
''تقلید حرام ہے،کسی مسلمان کیلیٔ جائز نہیں ہے کہ اللہ کے دین میں تقلید کرے۔'' اور کہا:
[فالتقلید لا یجوز والذین یبیحون تقلید العامي للعالم نقول لھم:أین الدلیل؟]
''یعنی تقلید جائز نہیں ہے اور جو لوگ عامی (جاہل) کیلئے عالم کی تقلید جائز قراردیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ (اس کی) دلیل کیا ہے؟اور کہا:
[نصیحتي لطلبۃ العلم؛الابتعاد عن التقلید،قال اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ: {لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ} ] [2]
''میری طالب علموں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ تقلید سے دوررہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:''اور جس کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چل۔''
دیوبندی حضرات اہلِ حدیث سے سخت بغض رکھتے ہیں۔مولانااشرف علی تھانوی صاحب نے اہلِ حدیث کے بارے میں لکھا ہے:
''اس لیے احتیاط یہی ہے کہ اُن کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔'' [3]
اور اگر کوئی شخص اہلِ حدیث کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کے لیے تھانوی فتویٰ درجِ ذیل ہے:
[2] غارۃ الاشرطۃ علی أھل الجھل والسفسطہ،ص۱۱،۱۲
[3] امداد الفتاویٰ،ج۱،ص۲۴۹