الصفحة 69 من 76

شیخ مقبل بن ہادی الیمنی رحمہ اللہ نے کہا:

[التقلید حرام،لا یجوز لمسلم أن یقلد في دین اللّٰہ…] [1]

''تقلید حرام ہے،کسی مسلمان کیلیٔ جائز نہیں ہے کہ اللہ کے دین میں تقلید کرے۔'' اور کہا:

[فالتقلید لا یجوز والذین یبیحون تقلید العامي للعالم نقول لھم:أین الدلیل؟]

''یعنی تقلید جائز نہیں ہے اور جو لوگ عامی (جاہل) کیلئے عالم کی تقلید جائز قراردیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ (اس کی) دلیل کیا ہے؟اور کہا:

[نصیحتي لطلبۃ العلم؛الابتعاد عن التقلید،قال اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ: {لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ} ] [2]

''میری طالب علموں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ تقلید سے دوررہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:''اور جس کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چل۔''

7اہلِ حدیث سے بغض:

دیوبندی حضرات اہلِ حدیث سے سخت بغض رکھتے ہیں۔مولانااشرف علی تھانوی صاحب نے اہلِ حدیث کے بارے میں لکھا ہے:

''اس لیے احتیاط یہی ہے کہ اُن کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔'' [3]

اور اگر کوئی شخص اہلِ حدیث کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کے لیے تھانوی فتویٰ درجِ ذیل ہے:

[2] غارۃ الاشرطۃ علی أھل الجھل والسفسطہ،ص۱۱،۱۲

[3] امداد الفتاویٰ،ج۱،ص۲۴۹

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت