فهرس الكتاب

الصفحة 652 من 864

کتاب الاضْحِیۃ والعقیقۃ……قربانی و عقیقہ کا بیان

س: پہلے دن قربانی کرنا زیادہ ثواب ہے یا چاروں دن میں سے کسی دن بھی قربانی کرنا ثواب میں برابر ہے؟ (ظفر اقبال)

ج: پہلے دن قربانی کرنا دوسرے تینوں دنوں کی بنسبت ثواب زیادہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:

(( مَاالْعَمَلُ فِیْ اَیَّامٍ اَفْضَلُ مِنْھَا فِیْ ھٰذِہٖ قَالُوْا وَلَا الْجِھَادُ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَیْئٍ ) ) [1]

['' کسی اور دن میں عبادت ان دس دنوں میں عبادت کرنے سے افضل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ جہاد بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں ۔ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لوٹے۔''] ۵؍۱۱؍۱۴۲۵ھ

س: کیا بھینسے کی قربانی جائز ہے ؟ اور یہ بھی وضاحت فرمائیں گھوڑے کی قربانی جائز ہے؟ جبکہ شریعت میں گھوڑا حلال ہے۔ (محمد عثمان ، چک چٹھہ)

ج: بھینس اور گھوڑے کی قربانی قرآن و سنت سے ثابت نہیں ۔ کسی جانور کے حلال ہونے سے اس کی قربانی کے جواز پر استدلال درست نہیں ۔دیکھئے ظبی و ہرن حلال ہے جبکہ اس کی قربانی درست نہیں ۔ ۱۰؍۱؍۱۴۲۴ھ

س: گزارش ہے کہ اگر کوئی مولانا صاحب اعلان کریں کہ قربانی ( گائے؍اونٹ) میں حصہ ڈالیے اور وہ حصہ ڈالنے والے کی تحقیق نہیں کرتے کہ آیا اس کی کمائی میں کوئی فتور ( حلال و حرام) تو نہیں ہے ۔ کیا ایسے شخص کا حصہ ڈال لینا جائز ہے یا نہیں ؟ (محمد اسماعیل شاکر،باغبانپورہ ، گوجرانوالہ)

ج: اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: {یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا} [حجرات:۱۲] [''اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو نہ ہی تم میں سے کوئی کسی کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت