232 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ المَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون بن مہران نے، انھوں نے سلیمان بن یسار سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھیں ( وہ فرماتی ہیں کہ ) پھر ( کبھی ) میں ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی تھی۔
قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ اگراس کا نشان دورکرنا سہل ہو تو اسے دور ہی کرنا چاہئیے، مشکل ہو تو کوئی ہرج نہیں۔ اگر رنگ کے ساتھ بوبھی باقی رہ جائے تو وہ کپڑا پاک نہ ہوگا۔ حضرت امام بخاری قدس سرہ نے اس با ت میں منی کے سوا اور نجاستوں کا صراحتًا ذکر نہیں فرمایا۔ بلکہ ان سب کو منی ہی پر قیاس کیا، اس طرح سب کا دھونا ضروری قرار دیا۔