فهرس الكتاب

الصفحة 1815 من 7563

کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں

باب: اللہ تعالیٰ کا قول " یا صدقہ " (دیا جائے ) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے

1815 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ وَقَفَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا فَقَالَ يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ رَأْسَكَ أَوْ قَالَ احْلِقْ قَالَ فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ أَوْ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس آکر کھڑے ہوئے تو جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوئیں تو تمہارے لیے تکلیف دینے والی ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سر منڈالے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ لفظ فرمایا کہ منڈالے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی کہ " اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں میں کوئی تکلیف ہو " آخر آیت تک، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک فرق غلہ سے چھ مسکینوں کو کھانا دے یا جو میسر ہو اس کی قربانی کردے۔

ایک فرق غلہ کا وزن تین صاع یا سولہ رطل ہوتا ہے، اس سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو ایک صاع کا وزن آٹھ رطل بتلاتے ہیں۔ قربانی جو آسان ہو یعنی بکرا ہو اور کوئی جانور جو بھی آسانی سے مل سکے قربان کردو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت