کُفُوًا اَحَدٌ۔لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ لا شبیہ لہ ولانظیر ولا عون ولا شریک ولا ظہیر ولا وزیر ولا ند ولا مشیر لہ لیس جسم فیمس ولا بجوھر یحس ولا عرض فیقضی ولاذی ترکیب اوآلۃ و تالیف وماھیۃ و تحدید وھو اللّٰه للسماء رافع وللارض واضع لا طبیعۃ من الطبایع ولا طالع من الطوالع ولا ظلمۃ تظھر ولا نور یظھر حاضر الاشیاء علما شاھد لھا من غیر مماسۃ عزیز قاھر حاکم قادر راحم غافر ساتر معز ناصر رؤف خالق فاطر اول آخر ظاہر باطن فرد معبود حی لا یموت ازلی لا یفوت ابدی المکوت سرمدی الجبروت قیوم لا ینام عزیز لا یضام منیع لا یرام فلہ الاسماء العظام المواھب الکرام قضی بالفناء علیٰ جمیع الانام فقال کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وھو بجھۃ العلو مسوی علی العرش محتو علی الملک محیط علمہ بالاشیاء (غنیۃ الطالبین ص ۵۲ ج ۱)
اس مقام پر ہم اختصار کے ساتھ صانع عالم کی معرفت کی آیتیں اور دلیلیں عرض کرتے ہیں۔انسان کو یہ معرفت اور یقین ہونا چاہیئے کہ اللہ یکتا ہے اور بے نیاز ہے نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ ہی کوئی اس کا ہم سر ہے۔اور کوئی بھی چیز اس جیسی نہیں ہے وہ سنتا اور دیکھتا ہے (یعنی کسی کی ذات یا صفت یا کوئی فعل اللہ کی ذات،صفت اور فعل جیسا نہیں ہو سکتا) اور نہ ہی کوئی اس کے مشابہ ہے۔اسی طرح کوئی اس کا مددگار ہے نہ شریک،نہ سہارا دینے والا ہے نہ وزیر نہ مد مقابل ہے نہ مشیر اور نہ تو وہ جسم ہے کہ اسے چھوا جا سکے اور نہ ہی وہ جوہر ہے کہ اسے محسوس کیا جا سکے اور نہ عرض ہے کہ ختم ہو سکے۔مرکب آلہ یا اجزاء کا مجموعہ بھی نہیں ہے۔نہ ہی اس کی ماہیت ہے اور نہ ہی جدا جدا