ذمہ داری سمجھتے ہوئے کیا جیسا:
٭ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کو لا إلہ إلا اللّٰہ کہنے کا حکم دیا۔ [1]
٭ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند مالک بن النضر پر اسلام پیش کیا۔ [2]
٭ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کو وضو مکمل کرنے کا حکم دیا۔ [3]
٭ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سعد بن ہشام کو تبتل (شادی نہ کرنے ) سے منع کیا۔ [4]
٭ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سلمہ بن عبدالرحمن کو زمین میں جھگڑا کرنے سے منع کیا۔ [5]
٭ اُم حکیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے اور اسلام قبول کرنے کا حکم دیا۔ [6]
٭ عدی بن حاتم کی پھپھونے اس کو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا حکم دیا۔ [7]
٭ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مریض کے پاؤں میں بلاکے دفع کرنے کے لیے پاز یبیں پہننے پر انکارکیا۔ (اس کو منع کیا) [8]
٭ سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کو نماز میں وضو ٹوٹ جانے پر وضو کا حکم دیا۔ [9]
٭ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نسیب (قریبی) کو نماز میں پھونکنے سے منع کیا۔ [10]
٭ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو شادی کا حکم دیا۔ [11]
٭ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قریبی سے شراب کی بدبو پا کر اس کو ڈانٹا۔ [12]
[2] الاستیعاب:4/1940۔
[3] مسلم: 240۔
[4] أحمد: 6/112۔
[5] مسلم: 1481۔
[6] الإصابۃ:8/225 وأسد الغابۃ:6/321۔
[7] أحمد: 4/378۔
[8] المستدرک علی الصحیحین:4/217۔
[9] أحمد: 6/272۔
[10] أبویعلٰی:6954۔
[11] مسند الشافعی:31۔
[12] سیر أعلام النبلائ: 2/244۔