نے جمع قرآن کے کام کی نسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنے کے لیے کچھ ایسی روایات گھڑ لیں جن کے مطابق حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع قرآن پر مامور کیا گیاتھا۔ جیفری کے الفاظ ہیں:
حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی جمع قرآن (Compilation of the Quran) کو ذاتی جمع قرار دینا قطعًا غلط ہے۔ متفق علیہ روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ جمع سرکاری (Compilation for Public) تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک جگہ قرآن جمع کرنے کاحکم دیا تھا48۔ آرتھر جیفری نے اپنی کتاب"Material"میں کتاب المصاحف کے اس حصے کو بنیاد بنایا ہے کہ جس میں مختلف صحابہ اور تابعین کے مصاحف کا تذکرہ ہے۔ جیفری کا کہنا یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مسلمانوں کا کسی ایک قرآن پر اتفاق نہ تھا بلکہ ان میں سے اکثر کے پاس اپنا ذاتی مصحف تھا اور یہ ذاتی مصحف ایک ایسے قرآن پر مشتمل تھا جو دوسرے کے پاس نہیں تھا۔اس کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں روایات و آثار سے صحابہ کے پندرہ اور تابعین کے تیرہ ایسے ذاتی مصاحف کا پتہ چلتا ہے کہ جن کی آیات مصحف عثمانی اور مروجہ قراء ا ت کے خلاف ہیں۔ آرتھر جیفری نے حضرت عبد اللہ بن مسعود،حضرت ابی بن کعب، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت ابوموسی اشعری،حضرت حفصہ،