''اگر اس نے سچ کیا؛ تو جنت میں جائے گا۔'' [1]
پس یہ پانچ ارکان وہ بنیادیں ہیں جن پر دین اسلام قائم ہے۔ اور مسلمان پر واجب ہوتا ہے کہ ان کی انتہائی سخت حفاظت کرےاور ان کا خوب بڑھ چڑھ کر اہتمام کرے۔یہ وہ سب سے بڑے اعمال ہیں جن کے ذریعہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا ہے۔جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے:
'' اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔'' [2]
پس جب انسان کو یہ توفیق دی گئی کہ وہ اپنی زندگی میں ان ارکان کی حفاظت کرے؛ تو بروز قیامت وہ ان شاء اللہ اہل جنت میں سے ہو گا۔
اس لیے اہل علم اور دین کے طالب علموں کو چاہیے کہ وہ عوام الناس کو ان ارکان کی حفاظت اور ان کے اہتمام کی ترغیب دیں ۔ اوراللہ کے دین میں ان کا مقام و مرتبہ اوران کی عظیم شان بیان کریں ۔ اوریہ کہ جو کوئی ان ارکان کو بجا لاتا ہے تو یقینًا وہ دین کی سب سے عمدہ ترین بنیادوں کو بجا لاتا ہے۔ اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان ارکان دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اس کی مدد و نصرت اور معاونت اور اس کی طرف سے توفیق کا طلب گار ہے۔
[2] البخاری ح: 6502 -پوری حدیث اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:'' جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے ۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔''