فهرس الكتاب

الصفحة 239 من 608

٭ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نجد کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ کیلئے نکلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری ملاقات ایسی جگہ پر ہوئی جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اپنی سواری سے اترے اور اپنی تلوار اس کی ایک ٹہنی سے لٹکا کر سو گئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اِدھر اُدھر بکھر گئے اور جہاں جس کو سایہ ملا وہ وہیں آرام کرنے لگا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا کہ

(( إِنَّ رَجُلًا أَتَانِی وَأنَا نَائِمٌ ، فَأَخَذَ السَّیْفَ،فَاسْتَیْقَظْتُ وَہُوَ قَائِمٌ عَلٰی رَأْسِیْ ، فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّیْفُ صَلْتًا فِی یَدِہٖ ،فَقَالَ لِیْ: مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّی ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ ، ثُمَّ قَالَ فِی الثَّانِیَۃِ: مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّی؟ قُلْتُ:اللّٰہُ،قَالَ: فَشَامَ السَّیْفَ،فَہَا ہُوَ ذَا جَالِسٌ ) )ثُمَّ لَمْ یُعَاقِبْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ [1]

''میں جب سویا ہوا تھا تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے میری تلوار اٹھائی ، میں بیدار ہوا تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ننگی تلوار سونتے ہوئے میرے سر پر کھڑا ہے ، اس نے مجھ سے کہا: (مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّی؟) آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ بچائے گا۔ اس نے پھر کہا: (مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّی؟) آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟

میں نے پھر بھی یہی کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی بچائے گا۔پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی ۔

اور دیکھو ! یہ ہے وہ شخص۔ ''حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی ۔یعنی اسے معاف کردیا ۔

٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا: (اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ) '' آپ پر موت ہو '' میں ان کے یہ الفاظ سمجھ گئی ۔

چنانچہ میں نے کہا: (عَلَیْکُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَۃُ) '' تم پر موت بھی ہو اور لعنت بھی ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَہْلًا یَا عَائِشَۃُ، فَإِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الرِّفْقَ فِی الْأَمْرِ کُلِّہٖ [2] ) )

''عائشہ ! ٹھہر جاؤ ( نرم رویہ اختیار کرو ) کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔''

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے سنا نہیں ، انھوں نے کیا کہا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں سنا کہ میں نے (وَعَلَیْکُم ) کہہ کر ان کی بات کو انہی پر لوٹا دیا ہے ۔

[2] صحیح البخاری:6256 ،صحیح مسلم:2165

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت