چھٹا باب
قبر اور دفن کے بیان میں
ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے جنگ احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کے لیے ایک ایک قبر کھودنا ہم پر دشوار ہے آپ نے فرمایا کشادہ زبر کھودواور گہر کھودو اور اچھی کھودو، اور دو ،دو، تین،تین کو ایک ایک قبر میں دفن کر و، اور جس کو قرآن زیادہ یاد ہو اس کو آگے کرو۔ روایت کیا اس حدیث کو نسائی وغیرہ نے۔ایک صحابی انصاری کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبر کے کنارہ پر بیٹھے ، قبر کھودنے والے کو فرما تے کہ پیر کی طرف کشادہ کر، سر کی طرف کشادہ کر، روایت کیا اس حدیث کو ابو داود وغیرہ نے۔ [1] ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ قبر کو گہری اور کشادہ اور اچھی کھودنا چاہیے۔ لیکن حدیث میں اس کی تصریح نہیں آئی ہے کہ کتنی گہری ہونی چاہیے۔ ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ میریے لیے بقدر قد کے گہری قبر کھود اور اس کی بھی تصریح نہیں آئی کہ کس قدر رکشادہ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اس قدر کشادہ ہونی چاہیے کہ بقدر ضرورت کچھ لوگ قبر میں داخل ہو کر میت کو لحد میں رکھ سکیں۔
فقہائِ حنفیہ لکھتے ہیں کہ قبر کا طول بقدر طول میت کے اور قبر کا عرض بقدر نصف طول کے ہوناچاہیے اور گہرائی بقدر نصف قامت کے ہونا چاہیے اور اگر بقدر قامت کے ہو تو احسن وافضل ہے۔ (شافی:ص۹۳۳،ج۱۔طحطاوی:ص ۳۸۱ج۱)