لوگوں نے پسند نہیں کیا۔ پس آپ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور قبر پر جنازہ کی نماز پڑھی اور ایک روایت میں ہے کہ ابن عباس نے کہا کہ ہم لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے نمازِ جنازہ پڑھی۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس میت پر نماز جنازہ پڑھی گئی ہے، اس کی قبر پر بھی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے، پس اگر کسی کو نمازِجنازہ نہیں ملی، اور بعد دفن کے پہنچا ، تو قبر پر نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، اکثر اہلِ علم کی یہی مذہب ہے [1] اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جس میت پر نمازِ جنازہ پڑھی گئی ہے اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
فائدہ: بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے مرنے کی خبر اسی روز لوگوں کو دی جس روز