اے اللہ جو ہم میں زندہ ہییںں اور جو ہم میں مردہ ہیں اور جو ہم میں حاضر ہویں اور جو ہم میں غاء ہیں اور جو ہم میں چھوٹے ہیں اور جو ہم میں بڑے ہیں اور جو ہم میں مرد ہیں اور جو ہم میں عورت ہیں ان سب کو بخش دے اے اللہ ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو تو مارے اس کو ایمان پر مار ، اے اللہ ہم کو اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور ہم کو اس کے بعد فتنہ نہ ڈال ۔ ( تومذی نے کہاکہ یہ حدیث حسن ہے۔)
(۳) حضرت واثلہ بن اصقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے جنازہ پر ہم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، پس میں نے آپ کویہ دعا پڑھتے ہوئے سنا:
اللھم ان فلا ن بن فلان فی ذمتک وحبل جوارک فقہ فتنۃ القبر وعذاب النار وانت اھل الوافاء والحق اللھم اغفرلہ وارحمہ انک انت الغفور الرحیم۔ (ابو داود ،ابن ماجہ)
اے اللہ بیشک فلاں بن فلاں تیری پناہ اور تیری ہمسایگی کے امان میں ہے، پس تو اس کو قبر کے فتنے اورآگ کے عذاب سے محفوظ رکھ اور تو وفا اور حق والا ہے، اے اللہ تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم کر ، بے شک تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
واضح ہو کہ فلاں بن فلاں کی جگہ میت اور اس کے با پ کا نام لینا چاہیے۔
(۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جنازہ میں دیہ دعا پڑھتے تھے:
اللھم انت ربھا وانت کلقتھا وانت ھدیتھا للاسلام وانت قبضت ورحھا وانت اعلم بسرھا وعلاننیتھا جئنا شفعاء فاغفر لا۔ (ابوداود ، نسائی)
اے اللہ تو اس کا رب ہیے تو ہی نے اس کو پیدا کیا اور تو ہی نے اس کو