فهرس الكتاب

الصفحة 52 من 119

[ولی کے بغیر نکاح نہیں]

امام ابن حبان نے اس پر یہ عنوان لکھا ہے:

[ذِکْرُ الْبِیَانِ بِأَنَّ الْوِلَایَۃَ فِيْ الْإِنْکَاحِ إِنَّمَا ھِيَ لِلْأَوْلِیَائِ دُوْنَ النِّسَائِ] [1]

[اس بات کا بیان، کہ نکاح کرنے کا اختیار عورتوں کی بجائے سرپرستوں کے پاس ہے]

امام ابن حبان نے اس پر درج ذیل عنوان بھی تحریر کیا ہے:

[ذِکْرُ نَفِيِ إِجَازَۃِ عَقْدِ النِّسَائِ النِّکَاحَ عَلٰی أَنْفُسِہِنَّ بِأَنْفُسِہِنَّ دُوْنَ الْأَوْلِیَائِ۔] [2]

[عورتوں کے لیے، سرپرستوں کی بجائے، خود اپنے نکاح کی اجازت نہ ہونے کا ذکر]

علامہ امیر صنعانی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

''وَالْحَدِیْثُ دَلَّ عَلٰی أَنَّہُ لَا یَصِحُّ النِّکَاحُ إِلَّا بِوَلِيِّ، لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي النَّفْيِ نَفْيُ الصِحَّۃِ، لَا الْکَمَالِ۔'' [3]

[''حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے، کہ ولی کے بغیر نکاح درست ہی نہیں، کیونکہ [لا نافیہ] اصل میں کسی چیز کے کمال کی نفی کی بجائے، اس کے درست ہونے کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔'']

[2] المرجع السابق ۹/۳۹۱۔

[3] سبل السلام ۳/۲۲۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت