الصفحة 49 من 124

ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ قرآن وسنت کے مطابق اپنے نظریہ کو بنایا جائے نہ کہ قرآن و سنت کو اپنے نظریئے کے مطابق ڈھالا جائے۔

اصول غامدی:۔

آگے غامدی صاحب رقمطراز ہیں:ان آیتوں میں قرآن کا نزول اور اس کی ترتیب وتدوین سے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو اسکیم بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے (ایضا،۲۶،۲۷)

تنبیہ:یہاں پر ہم غامدی صاحب کی اس اسکیم سے متعلق انہی باتوں کا ذکرکریں گے جو انہوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگائی ہیں۔

غامدی صاحب فرماتے ہیں:اس کی جو قرأت اس کے زمانہ نزول میں اس وقت کی جارہی ہے اس کے بعد اس کی ایک دوسری قرأت ہوگی اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اس میں سے کوئی چیز اگر ختم کرنا چاہیں گے تو اسے ختم کرنے کے بعد یہ آپ کو اس طرح پڑھا دیں گے کہ اس میں کسی سھو ونسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا اور اپنی آخری صورت میں بالکل محفوظ آپ کے حوالے کردیا جائے گا۔

ثانیًا:آپ کو بتایا گیا ہے کہ یہ دوسری قرأت قرآن کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردینے کے بعد کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی آپ اس کے پابند ہوجائیں گے کہ آئندہ اسی قرأت کی پیروی کریں گے اس کے بعد اس سے پہلے کی قرأت کے مطابق اس کو پڑھنا آپ کے لئے جائز نہ ہوگا۔

ثالثًا: یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کے کسی حکم سے متعلق اگر شرح ووضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی اس موقع پر کردی جائے گی اور اس طرح یہ کتاب خود اس کے نازل کرنے والے ہی کی طرف جمع وترتیب اور تفھیم وتبیین کے بعد ہر لحاظ سے مکمل ہوجائے گی۔ (ایضًا،۲۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت