فهرس الكتاب

الصفحة 49 من 296

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ما أبدلني اللّٰہ عزوجل خیرا منہا قد آمنت بي إذ کفر بي الناس و صدقتني إذ کذبني الناس و واستني بمالہا إذ حرمني الناس و رزقني اللّٰہ عزوجل ولدہا إذ حرمني أولاد النسائ۔ ) ) [1]

''اللہ نے مجھے اس سے بہتر بدلے میں نہیں دی بلا شبہ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری تصدیق کی جب مجھے لوگوں نے جھٹلایا اور اس نے مجھے اپنے مال کے ساتھ میری غم گساری کی جب لوگوں نے مجھے محروم کیا اور اللہ عزوجل نے مجھے اس سے اولاد عطا کی جبکہ اس نے مجھے دیگر عورتوں کی اولاد سے محروم رکھا۔''

احادیث مبارکہ میں ''کفر'' کا لفظ کفر اکبر کے لیے ہے اس لیے کہ اسلام کے بعد کافر ہو جانا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے ساتھ کفر بھی کفر اکبر ہے جس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

6 بریدہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب جنگ سکھاتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا:

(( ا [2]

''اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑو، اس سے قتال کرو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔''

7 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے لشکر روانہ کرتے تھے تو فرماتے:

(( ا [3]

''اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کی راہ میں اس کے ساتھ قتال کرو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، بدعہدی نہ کرو اور مُثلہ نہ کرو اور بچوں اور گرجا گھر والوں کو قتل نہ کرو۔''

8 ابو مالک الاشجعی اپنے باپ طارق بن اشیم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم سے فرما رہے تھے:

[2] ) صحیح مسلم کتاب الجہاد و السیر: 3/1730۔ مسند احمد: 38/78، رقم: 22978، 38/136، رقم: 23030۔

[3] ) مسند احمد: 4/461، رقم: 2728۔ مسند أبي یعلی: 2549۔ السنن الکبری للبیہقي: 9/90۔ کشف الأستار عن زوائد البزار: 2/269، رقم: 1677، 2/270، رقم: 1680۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت