فهرس الكتاب

الصفحة 154 من 454

[1] قدرت رکھتے ہیں۔ اور جس طرح سے حالات تقاضا کریں کہ جن احوال کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کو حکم دیں وہ جسمانی وجود والی صورتیں اور شکل و شباہت اختیار کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ قرآن حکیم میں مذکور ہے:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا {16} فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ

اَذِلَّۃٍ کے لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقامِ بدر مدینہ سے قریبًا ۲۰ میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ یہ واقعہ بروز جمعہ ۲۷ رمضان المبارک ۲ھ (۳ مارچ ۶۲۴ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ اُحد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکہ بدر کے واقعات پر غورو فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی تعلیم دی گئی ہے۔ جنگ بدر کی تفصیل کے لیے سورۂ انفال آیت ۴۱ دیکھیے۔ (شوکانی، ابن کثیر) '' اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ'' میں ظرف کا تعلق یا تو ''وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ'' سے ہے اور یا جنگ اُحد سے۔ امام طبری نے اوّل کو ترجیح دی ہے۔ یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرتِ تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتو ں کی مدد کا ذکر کرکے ان کو تسلی دی۔ چنانچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ (شوکانی، ابن کثیر) اور مُسَوِّمِیْنَ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ بدر کے دن فرشتوں کی تعداد ایک ہزار او ر تین ہزار بھی منقول ہے جو بظاہر تعارض ہے۔اس کا حل سورۂ انفال آیت ۹ میں ملاحظہ ہو۔ (ابن کثیر ، قرطبی) بعض کے نزدیک اس وعدہ کا تعلق جنگ اُحد سے ہے اور انہوں نے کہا ہے: چونکہ مسلمانوں نے توکل اور صبر سے کام نہ لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدد کو روک لیا ورنہ ظاہر ہے کہ اگر فرشتے نازل ہوتے تو مسلمان شکست نہ کھاتے۔ (ابن جریر) (

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت