(۲) تمام رسولوں کے سچا ہونے کا عقیدہ رکھنا، اور ان کی بیان کردہ ہر ہر بات اور ہر ہر خبر کو وجوبا قبول کرنا۔
(۳) رسولوں پر تحیہ وسلام کی مشروعیت ،نیز ان کی تعظیم واحترام کا وجوب۔
(۴) انبیاء ِکرام کی دعوت وشریعت کے خلاف ،کسی کی طرف سے جو کچھ وارد ہو اسے قطعی طور پر ٹھکرادینا،خصوصًا وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات سے متعلق ہیں۔
(۵) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمد وثناء بیان کرنا ، اور اس کا شکر ادا کرتے رہنا ایک ا مرِ مشروع ہے،خصوصًا سب سے بڑی نعمت،نعمتِ توحید پر۔
چنانچہ ایک موحد ،نعمتِ توحید پر کہ جو سب سے بڑی نعمت ہے جس قدر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کم ہے۔