کیا اب بھی کاروائی ضروری نہیں تھی جب کہ دار الخلافہ باغیوں کے قبضے میں چلا گیا اورقریب تھا کہ عدن بھی مقبوضہ بن جائے ۔
ششم: عموما ہمارے میڈیا میں یہ بات نشر کی جارہی ہے کہ حوثی قبائل کا مکہ مدینہ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ اس حوالے سے مکہ مدینہ کو کوئی خطرہ ہے ، تو ان مفاد پرست عناصر کی خدمت میں عرض ہے کہ حوثی تحریک کے ایک رہنما نے ایک ٹی وی پروگرام میں علی الاعلان یہ بات کہی ہے کہ اگر خلیجی ممالک اور سعودیہ اپنی حرکات سے باز نہیں آئے تو ہمارا پڑاؤ کعبۃ اللہ کا مقام رکن یمانی ہوگا۔
تفصیل کےلئےآپ یہ لنک ملاحظہ کرسکتے ہیں
نیز حوثی تحریک کے سربراہ عبد الملک حوثی اپنی ایک تقریر میں سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ: ''انہیں اپنے فعل کی بہت بھاری قیمت اداکرنی پڑے گی .''
حوثیوں نے یمن کے شہر صنعاء سے حاجیوں اور معتمرین کو لے جانی والی حج وعمرہ کی ٹریول ایجنسیز کو بھی خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں جس کی بنا پر بہت سی حج وعمرہ کی کمپنیوں کو اپنا کام صنعاء سے عدن منتقل کرنا پڑا ۔ملاحظہ کیجئے
https://newhub.shafaqna.com/.../10924408-الحوثي-يه
حوثیوں کے ایک اور رہنما عبد الکریم الخیوانی نے سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے ۔ ملاحظہ کیجئے
ان تمام حقائق کے بعد بھی کوئی اس خام خیالی میں ہے کہ حوثیوں کا بیت اللہ اور مکہ ومدینہ کے حوالے سے کوئی برا ارادہ نہیں تو ایسے شخص کی آنکھوں پر فریب نفس ،دھوکہ اور تعصب کی پٹی کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر ان حوثیوں کو سعودیہ سے عداوت تھی تو یہ ریاض پر حملے کا ذکر کرتے کیونکہ آل سعود کا دار الخلاٖفہ ریاض ہے نہ کہ مکہ ومدینہ لیکن ان کے زعماء ورہنماؤں کامقدس مقام مکۃ المکرمہ کا نام لینے سے ان کے عزائم بخوبی واضح ہوچکے ہیں ۔