''مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْہِنَّ،مِنْ ہٰذِہٖ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ،فَأَکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ۔'' [1]
''کوئی دن بارگاہِ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا [اچھا] عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے،پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے [لا إلہ الا اللّٰہ] ، [اللّٰہ اکبر] اور [الحمد للّٰہ] کہو۔''
سلف صالحین اس بات کا بہت اہتمام کرتے۔امام بخاری نے بیان کیا ہے:
''وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُوْہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہم یَخْرُجَانِ إِلَی السُّوْقِ فِيْ أَیَّامِ الْعَشْرِ یُکَبِّرَان،وَیُکَبِّرُ النَّاسُ بِتَکْبِیْرِہِمَا،وَکَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ رَحِمَہُمَا اللّٰہ تَعَالَی خَلْفَ النَّافِلَۃ۔'' [2]
''ان دس دنوں میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے،اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے اور محمد بن علی [3] رحمہما اللہ نفلی نماز کے بعد تکبیر کہتے۔''
۲:نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا:
امام مسلم نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ:
''سُئِلَ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ؟
[2] صحیح البخاري،کتاب العیدین،باب فضل العمل فی أیام التشریق،۲؍۴۵۷۔
[3] (محمد بن علی رحمہما اللہ تعالی) :ان سے مراد حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ تعالی ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباري ۲؍۴۵۸) ۔