بہت قریب ہوتا ہے:
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہٖ وَہُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ۔ ) ) [1]
''سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے لہٰذا سجدے میں بکثرت دعا کیا کرو۔''
نمبر8… سجد ے کی دعائیں:
پہلی دعا: سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
(( وَإِذَا سَجَدَ قَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ ) ) [2]
''آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے توتین مرتبہ''سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی'' کہتے۔''
دوسری دعا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
(( کَانَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَقُوْلَ فِی رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ۔ ) ) [3]
''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں یہ دعا کثرت سے پڑھتے: ''سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ'' (تو پاک ہے اے میرے اللہ اے ہمارے رب تمام تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں میرے اللہ! مجھے معاف فرمادے) ۔''
[2] صحیح مسلم: کتاب صلوۃ المسافرین باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلوۃ اللیل: 1814، وسنن ابن ماجہ:کتاب إقامۃ الصلوۃوالسنۃ منہا باب التسبیح فی الرکوع والسجود واللفظ لہ: 888۔
[3] صحیح البخاری:کتاب الأذان باب الدعاء فی السجود: 794 ، 817، وصحیح مسلم: کتاب الصلوۃ باب ما یقال فی الرکوع والسجود: 1085۔