یعنی وہ ان کے نزدیک صحیح الحدیث عن سفیان (الثوری) ہے۔
8۔ الحاکم:"صحح لہ فی المستدرک علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبی" (۳۸۴/۱ ح ۱۴۱۸) یہ روایت مؤمل بن سفیان (الثوری( کے سند سے ہے لہٰذا مؤمل مذکور حاکم اور ذہبی دنوں کے نزدیک صحیح الحدیث ہیں۔9۔ حافظ ذہبی:"کان من ثقات [البصریین] "(العبر فی خبر من غبر ۲۷۴/۱ وفیات ۲۰۶ھ) اس سے معلوم ہوا کہ ذہبی کے نزدیک مؤمل پر جرح مردود ہے کیونکہ وہ ان کے نزدیک ثقہ ہیں۔ 10۔ احمد بن حنبل:"روی عنہ"اما م احمد بن حنبل مؤمل سے اپنی المسند میں روایت بیان کرتے ہیں مثلًا دیکھئے (۱۶/۱ح ۹۷ وشیوخ احمد فی مقدمۃ مسند الامام احمد ۴۹/۱) ظفراحمد تھانوی دیوبندی نے لکھا ہے:"وکذا شیوخ احمد کلھم ثقات"اور اسی طرح احمد کے تمام استاد ثقہ ہیں۔ (قواعد فی علوم الحدیث ص ۱۳۳، اعلاء السنن ج ۱۹ ص ۲۱۸) حافظ ہیثمی نے فرمایا:"روی عنہ احمد وشیوخہ ثقات"اس سے احمد نے روایت کی ہے اور ان کے استاد ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ۸۰/۱) یعنی عام طور پر بعض راویوں کے استثنا کے ساتھ امام احمد کے سارے استاد (جمہور کے نزدیک) ثقہ ہیں ۔11۔ علی بن المدینی:"روی عنہ کما فی تھذیب الکمال" (۵۲۶/۱۸( وتھذیب التہذیب(۳۸۰/۱۰) وغیرھما وانظر الجرح والتعدیل (۳۷۴/۸) ابوالعرب القیروانی سے منقول ہے
ان احمد وعلی بن المدینی لا یرویان الا عن مقبول ۔ (تہذیب التہذیب ۱۱۴/۹ ت ۱۵۵) یقینًا احمد اور علی بن المدینی (عام طور پر( صرف مقبول ہی سے روایت کرتے ہیں۔12۔ ابن کثیر الدمشقی:"قال فی حدیث"مؤمل عن سفیان(الثوری) "الخ:"