فهرس الكتاب

الصفحة 588 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

مسافر ظہر اور عصر کی نمازیں کس وقت اکٹھی کرے؟

588 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم غزوۂ تبوک کے سال (۹ہجری میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے ظہر کی نماز کو مؤخر فرمایا، پھر باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں۔ پھر اندر چلے گئے، پھر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء اکٹھی کرکے پڑھیں۔

اس میں بطاہر جمع تاخیر کا بیان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت