فهرس الكتاب

الصفحة 89 من 311

حاصل کی ہے اور عرصہ سے بحیثیت سرپرست اس سے متعلق ہے۔یہ بات باعثِ شکر و امتنان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کے ایک ہی خاندان کو یہ توفیق بخشی ہے کہ وہ آغازِ جامعہ سے اب تک اس کے مصارف و نفقات کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔''

(مولانا عبد الرحمن محدث مبارک پوری رحمہ اللہ،حیات و خدمات،ص: ۸۳)

تلامذہ:

حضرت مبارک پوری رحمہ اللہ کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے۔تاہم چندمشہور تلامذہ کے اسماے گرامی یہ ہیں:

1-مولانا عبد السلام مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۴۲ھ)

2-مولانا عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۴۱۴ھ)

3-مولانا نذیر احمد املوی رحمانی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۶۵ء)

4-مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۲ھ)

5-مولانا ابو النعمان عبد الرحمن آزاد مئوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۵۷ھ)

6-علامہ تقی الدین الہلالی المراکشی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۸۷ء)

7-مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۹۷ء)

8-مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۲۰۰۷ء)

9-مولانا عبد الصمد حسین آبادی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۴۸ء)

10-مولانا حکیم محمد بشیر رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۸ھ)

(تراجم علماے حدیث ہند،ص: ۴۰۲)

ان تلامذہ کے مفصل حالات باب نمبر (۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ آپ کی تدریسی خدمات کے بارے میں رقمطراز ہیں:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت