حاصل کی ہے اور عرصہ سے بحیثیت سرپرست اس سے متعلق ہے۔یہ بات باعثِ شکر و امتنان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کے ایک ہی خاندان کو یہ توفیق بخشی ہے کہ وہ آغازِ جامعہ سے اب تک اس کے مصارف و نفقات کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔''
(مولانا عبد الرحمن محدث مبارک پوری رحمہ اللہ،حیات و خدمات،ص: ۸۳)
حضرت مبارک پوری رحمہ اللہ کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے۔تاہم چندمشہور تلامذہ کے اسماے گرامی یہ ہیں:
1-مولانا عبد السلام مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۴۲ھ)
2-مولانا عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۴۱۴ھ)
3-مولانا نذیر احمد املوی رحمانی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۶۵ء)
4-مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۲ھ)
5-مولانا ابو النعمان عبد الرحمن آزاد مئوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۵۷ھ)
6-علامہ تقی الدین الہلالی المراکشی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۸۷ء)
7-مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۹۷ء)
8-مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۲۰۰۷ء)
9-مولانا عبد الصمد حسین آبادی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۴۸ء)
10-مولانا حکیم محمد بشیر رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۸۸ھ)
(تراجم علماے حدیث ہند،ص: ۴۰۲)
ان تلامذہ کے مفصل حالات باب نمبر (۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔
مولانا محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ آپ کی تدریسی خدمات کے بارے میں رقمطراز ہیں: